Saturday, 31 December 2011

کتب خانہِ اسکندریہ سے ایک سبق

 

روم اور ایتھنز جیسے عظیم شہروں کے مقابلے پر ہونے کے باوجود زمانہِ قدیم کےعظیم ترین شہرہونے کا اعزاز اگر کسی شہر کو ملنا چاہیے تو وہ مصر کا ساحلی شہر اسکندریہ ہے ۔ سکندرِاعظم نے اپنی فتوحات کے دوران کئی شہر آباد کئے لیکن اگر کوئی شہر اگر آج تک سکندر کے نام سے منسوب ہے تو وہ اسکندریہ ہے۔ اسکندریہ کی اصل عظمت اس کا اہم محل وقوع  یا اس کی مادی  دولت نہیں تھی بلکہ علم کی وہ عظیم دولت تھی جو کہ اس شہر کے عظیم کتب خانے میں سکندر کے بعد آنے والے مصر کے یونانی حکمرانوں جمع کی تھی۔تین سو قبلِ مسیح میں تعمیر ہونے والا یہ کتب خانہ ناصرف زمانہِ قدیم کی کتابوں کا ایک عظیم ذخیرہ تھا بلکہ علم و دانش گہوارہ  تھا، دنیا کا پہلا اصل تحقیقاتی ادارہ۔ زمانہِ قدیم کے عظیم ترین مفکر اس کتب خانے  کہ راہداریوں میں مستقبل کے مفکر تیار کیا کرتے تھے، دنیا بھر سے فلسفی، جغرافیہ دان، تاریخ دان، ماہرِفلکیات، شاعر، علم کے پیاسے اور سیاح اس کتب خانے کا رخ کرتے تھے۔ کتب خانے کی عظمت کا اندازہ ایسے لگاجاسکتا ہے کہ کاغذ کی ایجاد سے بھی قبل اس کتب خانے ایک محتاط اندازے کے مطابق ہرموضوع پر کم از کم پانچ لاکھ کتب موجود تھیں۔ اسکندریہ کی بندرگاہ پر آنے والا ہرجہازکی تلاشی صرف اس لئے لی جاتی تھی کہ کوئی تحریر مل جائےتاکہ اس کی نقل کتب خانے میں جمع کرائی جاسکے۔ معلومات کے اس ذخیرہ سے ہی کتب خانے کے لائبریرین  ایرسٹاستانیس کو معلوم ہوا کہ شہر سائین میں سال کے سب سے بڑے دن زمین میں گڑھی ہوئی لکڑی کا کوئی سایہ نہیں ہوتا، جبکہ اسکندریہ میں اس کے برعکس اس کا سایہ موجود ہوتا ہے، ان معلومات کی بدولت اس نے نہ صرف یہ دریافت کیا کہ سطح زمین سیدھی نہیں بلکہ کُروی  ہے بلکہ سائین اور اسکندریہ کا درمیانی فاصلہ ناپ کر علمِ جیومیڑی کے زریعے زمین کا  اصل محیط بھی معلوم کیا، یہ ایرسٹاستانیس ہی تھا کہ جس نے یہ سوچ دی کہ زمیں کے گرد چکر لگایا جاسکتاہے۔ اسی شہر میں ہیرافلس نامی طبیب نے پہلی دفعہ دل کی بجائے دماغ کو عقل، سوچ  اورحسیات کا منبع قرار دیا۔عظیم انجینئر، بھاپ سے چلنے والے پہلے انجن، گراریوں پر مشتمل ٹرین کا موجد اور روباٹکس پر لکھی گئی پہلی کتاب کا مصنف ہیرون بھی اسی شہر کا باشندہ تھا۔  سسلی کے مشہور طبعیات دان، ریاضی دان، انجینئر،موجداور فلکیات دان آرشمیدس نے بھی جوانی اسی شہر میں تعلیم حاصل کرتے ہوئے گزاری۔اسکندریہ اپنے زمانے کا ایک عظیم ترین   شہر اور کتب خانہِ اسکندریہ زمانہِ قدیم میں علم و دانش کا واحد شرچشمہ تھا، لیکن کیا وجہ ہے آج ہمیں اس کتب خانے کے صحیح مقام تک کا علم نہیں۔ آج  ہم اس عظیم کتب خانے میں لاکھوں کتابوں میں سے چند کے صرف نام جانتے ہیں،  آج اس عظیم مرکز علم و دانش کی اگر کوئی نشانی موجود ہے تو وہ  ہیں ان لاکھوں کتابوں میں   سے صرف چند بوسیدہ صفحات۔ اس کتب خانے کہ تباہی سے ہوئے علمی نقصان کا اندازہ اس طرح لگائیے کہ دس صدیوں بعد یہ  علم دوبارہ حاصل کیا گیا یعنی اگر یہ علم نئے لوگوں کو منتقل ہوتا رہتا تو آج ہم ایک ہزار سال آگے ہوتے،آخر کیا وجہ ہوئی کہ اس کتب خانے کو اپنی تباہی پر رونے والا بھی کوئی نہ ملا۔

اس کا کوئی آسان جواب نہیں مگر ایک بات واضح ہے، اس بات کا کتب خانے کی تاریخ میں  کوئی  ثبوت نہیں ملتا ہے کہ  ان تمام عظیم فلسفیوں ، اسکالرز   اور سائنسدانوں نے   جو اس لائبریری میں کام کرتے تھے، کبھی سنجیدگی سے اس دو ر کے کسی سیاسی، معاشی یا مذہبی نظریات کو للکارا ہو۔ستاروں کے طبعی حالات پر تو سوالات اٹھائے جاتے تھے لیکن انسانی غلامی پر نہیں۔ سائنس بلکہ علم بلعموم،  محض کتب خانے کی دیواروں تک محدودتھا،میکانیل ٹیکنالوجی کوباد شاہ کو خوش کرنے کے لئے  اور بہتر ہتھیار بنانے کے لئے تو استعمال کیا جاتا تھا لیکن عام آدمی کو اس کا  کوئی فائدہ نہیں پہچتا تھا۔سکندر کا استاد اور یونانی مفکرایریسٹاٹل  نے دنیا بھر کے انسانوں کو دو گروہوں میں تقسیم کیا یعنی یونانی اور غیر یونانی  جنہیں ایریسٹاٹل نے بربر قرار دیا تھا، ایریسٹاٹل کے مطابق یونانیوں کو نسلی طور پر پاک رہنا چاہیےتھاور اس نےانسانوں کوغلام بنانا یونانیوں کے لئے جائز قرار دیا تھا۔علم کے اس عظیم خزانے  کے ہونے کہ باوجود مصر کے یونانیوں نے اپنے نظریات پرکبھی تنقیدی سوچ نہیں اپنائی اور یہی وجہ ہے کہ جب بلوائی کتب خانے کو جلانے کے لئے آئے تو انہیں روکنے والا کوئی نہ تھا، اس طرح دنیا بھر کا علم بھی اسکندریہ کی عظمت کو تاریخ کی گرد میں دفن ہونے سے نہیں بچاسکا۔

کتب خانے کے آخری  لائیبریرین ایک خاتون  فلسفی ، فلکیات  و ریاضی دان  اور فلسفے کے ایک اسکول کی سربراہ ہائےپیشیاتھیں۔اس دورکا مصری معاشرہ مزید تقسیم کا شکار ہوگیاتھا، مصر پر رمیوں کا قبضہ  تھا، سرزمینِ مصر کی آخری یونانی حکمران قلوپترہ، رومی فاتح جولیس سیزر اور مارک انتھونی کا وقت گذر چکا تھا ۔عیسائیت مصری معاشرے میں اپنے جگہ بنارہی تھی اورمذہب حرفِ آخر بنتا جارہا تھا۔ اسکندریہ کے عیسائیوں کے نزدیک علم فلسفہ، فلکیات اور طبعیات علومِ شیطانیت تھےاور مذہب کے لئے جان دینا اور لینا ایک عظیم کام سمجھا جانے لگا تھا۔ان خطرات کے باوجود ہائےپیشیا نے اپنا اسکول جاری رکھامگر سن چار سو پندرہ میں اسکول جاتے ہوئے اسے اسکندریہ کے راہب سیرل کے جنونی پیروکاری نے گھیر لیا۔ اسے اس کی سواری سے کھینچ کر اتارا گیا، اس کے کپڑے پھاڑ ڈالے گئے، اور تیز دھار سیپیوں سے اس کا گوشت اس کی ہڈیوں سے اتارا کر اس کی لاش کو جلادیا گیا ۔ہائےپیشیا کو مصر میں بھلا دیاگیا اور سیرل کو صوفی بنادیا گیا۔ ہائے پیشیا کے موت کے ایک سال کے اندر اسکندریہ کے عظیم کتب خانے کو بھی تباہ کردیا گیا اور آج  چند بوسیدہ ٹکڑوں کے سواء  اس کا کوئی نشان باقی نہیں۔

آج اگر ہم اپنے معاشرے کو دیکھیں تو شاید وہ ہائےپیشیا کے دور کے مصر سے کچھ مختلف نہیں۔ ظلم ، طبقاتی تفریق ، تفرقہ اور سب سے بڑھ کر مذہب کے نام پر قتل کرنے اورقتل ہونے کا جذبہ ہمارے معاشرے میں بدرجہ اتم موجود ہے۔ ایک گروہ مذہب کے نام پرقوم اور مجموعی سوچ کو یرغمال بنانے کے لئے بیتاب ہے، لڑکیوں کے اسکولوں کو تباہ کیا جارہا ہے، دوسروں کو کافر اور واجب القتل ہونے کی سندیں جاری کی جارہیں ہیں لیکن میرے نزدیک المیہ یہ نہیں ہے۔ المیہ یہ ہے کہ ہمارے معاشرے  میں تنقیدی سوچ کا خاتمہ ہوچکا ہے اور ہم اپنے اندر موجود خرابیوں کو ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں، منافقت اس قدر ہے کہ اگر یہ یورینیم ہوتی تو ہم پوری دنیا کی توانائی کی ضروریات پوری کرسکتے۔ہمیں بحیثیتِ مجموعی اس کا تدارک کرنا ہوگا، اپنے اندر موجود خرابیوں کی نشاندہی اور ان کی تصحیح کرنا ہوگی، نظریات کو فرقہ وارانہ اور مذہبی کسوٹی کے بجائے عقل کی کسوٹی پر پرکھنا ہوگا اور اگر ہم ایسا نہ کریں گے تو ہماری تباہی پربھی کوئی رونے والا نہ ہوگا۔


نوٹ۔ بعض تاریخ دان کتب خانے کی تباہی کا ذمہ دار مصر کے اسلامی فاتح عمرو بن العاص کو ٹہراتے ہیں کہ ان کے اس حکم پر کہ "اگر یہ کتابیں قرآن سے مطابقت رکھتی ہیں تو ان کی کوئی ضرورت ہی نہیں اور اگر یہ قرآن کے خلاف ہیں تو انہیں تباہ ہوجانا چاہیے"پر کتب خانے کو تباہ کیا گیا تھا، لیکن مورخین کی اکثریت اسے نہیں مانتی اور میرے نزدیک بھی اس دعویٰ میں سچائی نظر نہیں آتی۔

11 comments:

  1. نوٹ سے اوپری پیراگراف سے کلی طور پر آپ سے متفق ہوں، جہاں تک آپ کے نوٹ کی بات ہے تو میرا خیال ہے جب مجرم خود جرم کا اعتراف کر رہا ہو تو پھر کوئی شک باقی نہیں رہتا، پہلی بات تو یہ ہے کہ کتب خانے کی تباہی اگرچہ عمرو بن العاص کے ہاتھوں ہی ہوئی تھی تاہم اس کا حکم اس وقت کے خلیفہ حضرت عمر نے دیا تھا، نوٹ میں جو بیان آپ عمرو بن العاص سے منسوب کر رہے ہیں وہ دراصل عمر کا ہے، عرب مؤرخین اس واقعے کو بڑی صراحت سے نقل کرتے ہیں، میں آپ کو اسلامی حوالے بتا دیتا ہوں خود تصدیق کر لیجیے:

    1- المواعظ والاعتبار فی ذکر الخطط والآثار - المقریزی - جلد 1 صفحہ 159
    2- الفہرست - ابن الندیم - صفحہ 334
    3- کشف الظنون عن اسامی الکتب والفنون - مصطفی بن عبد اللہ - جلد 1 صفحہ 446
    4- تاریخ ابن خلدون - جلد 1 صفحہ 32
    5- تاریخ التمدن الاسلامی - جرجی زیدان - جلد 3 صفحہ 42
    6- مختصر الدول - ابو الفرج المالطی - صفحہ 180

    ReplyDelete
  2. میرا اپنا خیال تھا کہ جس طرح عیسائیت نے یورپ بھر میں سائنسی تحقیق اور آزاد سوچ کی نفی کی اور عیسائیت نظریات کے مخالف کسی سوچ کو برداشت نہیں کیا گیا۔اسی طرح انہوں نے مصر میں بھی عیسائی نظریات کو چلنج کرنے والی معلومات کو شیطانیت خیال کرکے تباہ کیا ہوگا۔ لیکن اس سے فرق نہیں پڑتا میرا نکتہ دراصل یہ ہے کہ مذہب کے نام پر سوچ کو یرغمال نہیں بننا چاہیئے خواہ وہ مذہب اسلام ہو یا عیسائیت۔

    ReplyDelete
  3. مسلمانوں کے زوال کی وجوہات میں سب سے بڑی وجہ ان کے علم کی تباہی تھی۔ گو کہ سقوط بغداد ہی کافی تھا لیکن سقوط غرنامہ نے مسلمانوں کی علمی برتری کا خاتمہ کر دیا۔ یہی برتری پھر مغرب کو ملی جس نے مسلمانوں سے یہ سبق سیکھا کہ نئی تہذیب و تمدن کو محفوظ رکھنے کے لیے اچھے دفاع کی بھی ضرورت ہے اور جیسا مسلمانوں کے ساتھ ہوا ایسا ہمارے ساتھ نہیں ہونا چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے نئی تہذیب کی بنیاد رکھنے کے ساتھ ساتھ اس کو بچانے کے لیے دفاع پر بھی زور دیا اور آج وہ اس حکمت عملی کے باعث کامیاب ہیں۔
    عرض کرتا چلوں کہ جدید دور میں مسلمانوں کا مسئلہ محض مذہبی انتہا پسندی نہیں ہے۔ مسلمانوں کا اصل مسئلہ تعلیم و شعور کی کمی اور اخلاقی زوال ہے۔ اس جانب زور دینے کی ضرورت ہے، بجائے اس کے کہ مذہب کو رگڑ کر مسلمانوں کو مسلمانیت ہی سے نکال دیا جائے۔ کہ بعد میں وہ کچھ بھی بن جائیں لیکن مسلمان نہیں رہیں گے۔

    ReplyDelete
    Replies
    1. غیر متفق ابو شامل صاحب .
      پہلی بات مسلمانوں کے علمی زوال کی وجہ خود مسلمان ہے یعنی غزالی اور اسکی قوم کا طاقتور ہونا.
      . مسلمانوں کے ہاں علم دشمنی غزالیات کی طاقت کے بعد ایمان کا حصہ بن گئی ہے .
      یہ کہنا سراسر غلط ہے کہ کچھ حملہ اوروں نے آ کر تهذیب تباہ کر دی ، وہ عمارتیں ، اور لا لائبریریاں تو تباہ کر سکتے ہیں مگر علمی تحریک نہیں . اس کو تباہ کرنے کے لیے ایک رد تحریک چاہیے جو کے غزالی کی تھی. تاریخ بتاتی ہے کے ووہی ازم مسلمان سائنسدان، فلسفی مارے گئے ، چھپتے پھرتے تھے مسلمانوں سے . .

      آج بھی علم دشمنی اور روشنی سے نفرت کی تحریک مسلمانوں کے سب سے پڑھے لکھے لوگ چلا رہے ہیں نہ کہ جہلا . .

      جہالت کو الزام دینا ہماری مڈل کلاس کا فیشن ہے اور اصل مسلہ سے توجہ ہٹانے کا طریقہ . کیوں یہی اربن مڈل کلاس ہی اسلام کی داعی اور سیاسی اسلام کا آلہ اور القائدہ، جماعت اسلامی ، اخوان الملسموں کی روح رواں ہے

      Delete
  4. بلاگنگ کی دنیا میں خوش آمدید محترم۔ بہت خوبصورت اور معلوماتی تحریر ہے یہ۔ امید ہے لکھتے رہیں گے۔

    والسلام

    ReplyDelete
  5. بہت شکریہ محمد وارث صاحب، آپ جیسے ادب کے مداح کی جانب سے تعریفی کلمات کی میری لئے بہت اہمیت ہے۔

    ReplyDelete
  6. میرے خیال میں مذہبی انتہائی اصل کیا نقل مسئلہ بھی نہیں ہے،اصل مسئلہ علم و شعور کی کمی ہے جس سے آپ بھی متفق ہیں، لیکن سوال یہ اٹھتا ہے کو کونسا علم اور کونسا شعور، علم و شعور کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ کمپیوٹر پروگرامنگ سیکھ کر، ایم بی اے کرکے یا انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کرکے اچھی ملازمت حاصل کرلی جائے، اور ہم اپنے گرد ہونے بیوقوفی پر آںکھیں بند کرلیں، سوچ اور نظریات کی بلا سینسر شپ ترویج پر سمجھوتا کرلیں۔ ہمیں بحیثتِ مجموعی قوم ایسے شعور کی ضرورت ہے جو ہمیں تنقیدی سوچ، اور خود تصحیح کی طاقت دے۔

    ReplyDelete
  7. لیکن بلال میاں! ہمارے ہاں کا نام نہاد دانشور طبقہ مذہبی انتہا پسندی کو پاکستان میں وقت کا سب سے بڑا مسئلہ کر کے پیش کر رہا ہے۔

    باقی آپ کی باتوں سے میں متفق ہوں لیکن کیونکہ یہ باتیں ایسے وقت کی جا رہی ہیں جب ہمارے ہاں کا آزاد خیال طبقہ اس کا ڈھنڈورا پیٹ رہا ہے اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ ایسی بات کہہ کر اِس وقت ان کی پیٹھ نہیں ٹھونکنی چاہیے۔ اصل مسئلے کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے یعنی قوم کو شعور و آگہی دینے اور ان کی تعلیم و تربیت کی جس کی جانب کوئی توجہ نہیں دے رہا۔

    ReplyDelete
  8. مذہبی انتہاء پسندی دراصل شعور اور علم ناپید ہونے کی وجہ سے ہے، یہ مسئلہ نہیں مسئلہ کی پیداوار ہے۔ اگر ہمیں مذہبی انتہاء پسندی ختم کرنی ہے تو لوگوں کو شعور دینا ہوگاانہیں یہ سمجھانا ہوگا کہ انہیں ہرطرح کی رائے کا احترام کرنا چاہیئے۔ اگر ہم انتہا پسندی کو اصل مسئلہ سمجھیں گے تو اس کا حل ہماری نظری میں انتہا پسندوں کو ختم کرنا ہوگا جو کہ اصل حل نہیں ہے۔

    ReplyDelete
    Replies
    1. بلال صاحب نیا نیا ہوں آپ کے بلاگ پر .. مگر جماعت اسلامی، اخوان المسلمون ، القائدہ، جھنگوی، مسود اظہر، مولانا جنید جمشید. حافظ سعید ین سمیت مجھے تو اس تحریک احیا اسلام میں کوئی انپڑھ نہیں ملتا .
      بلکہ یوں لگتا ہے کہ جو جو ہم لوگوں کو تعلم دیتے جا رہے ہیں ہمارا بھٹہ بیٹھتا جا رہا ہے .
      اس کی کافی وجوہات ہیں . ایک وجہ ہو سکتی ہے تعلیمی نصب . مگر ہم پاکستان کے تعلیمی نصب کو تب مورد الزام ٹھہرا یں جب یہ صرف پاکستان میں ہو رہا ہو . عافیہ صدیقی ایک اور مثال ہے . ایمسٹرڈیم سے جانگیہ میں بم لے جانے والا امپیریل کالج کا گریجویٹ تھا.

      Delete
  9. کبھی فرصت سے اس پر بھی غور فرمائیے گا کہ انتہاء پسند فکر کو ایندھن کہاں سے مل رہا ہے؟

    ReplyDelete